logo
Select Language
Hindi
Bengali
Tamil
Telugu
Marathi
Gujarati
Kannada
Malayalam
Punjabi
Urdu
Oriya

اچھا انسان بننا اتنا مشکل کیوں؟

خالد سیف اللہ موتیہاری

بظاہر یہ سوال بہت سادہ معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے پردے میں ہماری پوری سماجی اور باطنی کیفیت کا نوحہ چھپا ہوا ہے۔ ہر شخص "اچھا" کہلانے کی تمنا تو رکھتا ہے، مگر اچھا بننے کی قیمت ادا کرنے سے کتراتا ہے۔ ہم سب ستائش کے متمنی ہیں مگر اصلاح کے کٹھن مرحلے سے خائف رہتے ہیں۔ یہی وہ تضاد ہے جو اس بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ آخر اچھا انسان بننا اتنا مشکل کیوں محسوس ہوتا ہے؟
اچھا انسان بننے کا عمل باہر سے نہیں، بلکہ تطہیرِ قلب (اندر کی صفائی) سے شروع ہوتا ہے، اور اپنی اندرونی دنیا کو سنوارنا دنیا کا سب سے دشوار گزار کام ہے۔ لباس بدل لینا، لہجہ نرم کر لینا یا چند خوشنما جملے سیکھ لینا تو محض ایک "اداکاری" ہے جو کوئی بھی کر سکتا ہے۔ اصل امتحان تو وہاں شروع ہوتا ہے جہاں نیت کو کھوٹ سے پاک کرنا ہو، حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرنا ہو، اور عین قدرت کے باوجود انتقام کے بجائے معافی کا راستہ چننا ہو۔ یہ وہ محاذ ہے جہاں انسان کو خود اپنے خلاف جنگ لڑنی پڑتی ہے۔
ہم ایک ایسے عجب دور میں جی رہے ہیں جہاں اخلاقی لغت بدل دی گئی ہے۔ یہاں چالاکی کو "دانشمندی" اور درشتی کو "مضبوطی" کا نام دے دیا گیا ہے۔ اگر آپ کا دل نرم ہے تو آپ کمزور قرار پاتے ہیں؛ اگر آپ سچ بولتے ہیں تو آپ کو سادہ لوح یا بے وقوف سمجھا جاتا ہے، اور اگر آپ اصول پر ڈٹ جائیں تو اسے "زمانے کی سمجھ نہ ہونا" کہا جاتا ہے۔ جب پورا معاشرہ اقدار کو الٹا ناپنے لگے، تو ایک سیدھا راستہ چننے والا شخص خود بخود اجنبی لگنے لگتا ہے۔
اچھا بننے کا مطلب اکثر اپنی خواہشات کی قربانی دینا ہوتا ہے۔ نفس ہمیشہ "فوری لذت" اور "فوری فائدہ" مانگتا ہے، جبکہ اچھائی کا ثمر اکثر صبر کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ جھوٹ بول کر وقتی کامیابی حاصل کرنا آسان ہے، مگر سچ کا بوجھ اٹھانا ایک مستقل مشقت ہے۔ بقول شاعر:

اصولوں پہ جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہے
جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے

بدلہ لے لینے سے دل کو ایک عارضی سکون مل سکتا ہے، مگر معاف کر دینے کے لیے دل کو ایک کائنات جتنی وسعت دینی پڑتی ہے۔ نفس کو سکون پسند ہے، جبکہ کردار کو سچائی کی تپش۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اچھا بننے سے زیادہ "اچھا نظر آنے" کی دوڑ میں شامل ہیں۔ نیکی اگر شہرت اور دکھاوے کی محتاج ہو جائے تو وہ اپنا وزن کھو دیتی ہے۔ اصل انسانیت تو وہ ہے جو تنہائی کے اس گوشے میں بھی برقرار رہے جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو، کوئی تالی بجانے والا نہ ہو، اور کوئی تمغہ دینے والا نہ ہو۔ مجمع میں نیک بننا ایک سماجی ضرورت ہو سکتی ہے، مگر تنہائی میں نیک رہنا خالصتاً انسانی صفت ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اچھا انسان بننا شاید اتنا مشکل نہیں، جتنا مسلسل اچھا بنے رہنا ہے۔ ایک دن کے لیے کسی پر مہربان ہونا ایک جذباتی لہر ہو سکتی ہے، مگر زندگی بھر کے رویوں میں نرمی اور توازن رکھنا ایک مستقل ریاضت مانگتا ہے۔ کردار کسی ایک واقعے کا نام نہیں، یہ تو برسوں کی مستقل مشق اور ضمیر کی مسلسل آبیاری کا نتیجہ ہوتا ہے۔
اس تمام مشکل کے باوجود، اچھائی کا سفر کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ اس کا پہلا اور فوری انعام خود انسان کے اندر ایک عجیب سے سکون اور اطمینانِ قلب کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ضمیر کی تسلی وہ دولت ہے جو کسی چالاکی یا مکر و فریب سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔
شاید اصل سوال یہ نہیں کہ اچھا بننا مشکل کیوں ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم اس "مشکل" کو گلے لگانے کے لیے تیار ہیں؟ جس دن ہم اچھا کہلانے کی خواہش سے آزاد ہو کر اچھا بننے کی تڑپ پیدا کر لیں گے، راستہ خود بخود آسان ہوتا چلا جائے گا۔

10
154 views

Comment